حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے مدرسہ علمیہ مروی کے متولی استاد محمدباقر تحریری نے پیر، 26 اکتوبر کو امام صادق یونیورسٹی میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس «فقیہ سیاستداں؛ آیت اللہ مہدوی کنی» سے خطاب کرتے ہوئے ان کی علمی، عملی اور اخلاقی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے آیت اللہ مہدوی کنی کو قرآن مجید کی اس آیت کا روشن مصداق قرار دیا جس میں ان مومنوں کا ذکر ہے جو اللہ سے کیے گئے عہد پر ثابت قدم رہتے ہیں۔ ان کے مطابق، آیت اللہ مہدوی کنی نے زندگی کے مختلف مراحل میں اپنے عہد کو نبھایا اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں استقامت کا مظاہرہ کیا۔
استاد تحریری نے مدرسہ علمیہ مروی کی متولی ہونے کے حوالے سے امام خمینیؒ کی جانب سے آیت اللہ مہدوی کنی کی تعریف اور شہید رہبر کے تعزیتی پیغام میں ان کے بارے میں بیان کیے گئے کلمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان بیانات سے اس عظیم دینی اور انقلابی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ایسی خصوصیات رکھنے والی شخصیات کم ہی نظر آتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خداوند متعال اور آخرت پر گہرا ایمان آیت اللہ مہدوی کنی کی کامیابی کی بنیادی وجہ تھا۔ قرآن مجید کے مطابق، حقیقی مومن وہ ہیں جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں، شک میں مبتلا نہیں ہوتے اور اپنے مال و جان کے ذریعے اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہیں۔ اس لیے درست زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان حق کے راستے کو پہچانے اور اپنے مقصد کی سچائی کے بارے میں پختہ یقین رکھے۔
استاد تحریری نے مزید کہا کہ جب انسان کسی راستے کو حق سمجھ لے تو اسے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے اور کسی بھی مرحلے پر کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ حق سے وابستگی اور احساس ذمہ داری آیت اللہ مہدوی کنی کی زندگی میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا تھا۔
انہوں نے نفس سے جہاد کو سب سے بڑا جہاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ مہدوی کنی کی زندگی کی اہم خصوصیات میں فقاہت، علم و دین کے راستے میں جدوجہد اور دینی علوم کی بنیاد پر سیاست کرنا شامل تھا۔
مدرسہ علمیہ مروی کے متولی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مضبوط ایمان انسان کے لیے زندگی کی مشکلات کو آسان بنا دیتا ہے۔ ایمان کی قوت رکھنے والا شخص مشکلات سے مایوس ہونے کے بجائے انہیں اپنی ترقی اور روحانی بلندی کا ذریعہ بناتا ہے۔
انہوں نے ہدایت کرنے والے علما کی خصوصیات کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کو ایسے عالم کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو اسے شک سے یقین، دکھاوے سے اخلاص، دنیا کی محبت سے آخرت کی فکر اور تکبر سے عاجزی کی طرف لے جائے۔ ان کے مطابق، یہ تمام خصوصیات آیت اللہ مہدوی کنی کی شخصیت اور اخلاق میں نمایاں تھیں۔
واضح رہے کہ بین الاقوامی کانفرنس «فقیہ سیاستداں؛ آیت اللہ مہدوی کنی» امام صادق یونیورسٹی میں علمی، حوزوی اور ثقافتی شخصیات کی شرکت سے منعقد ہوئی۔ اس موقع پر تہران کے صوبائی حوزہ علمیہ کونسل کے سربراہ استاد علی اکبر رشاد، صدا و سیما کے سربراہ پیمان جبلی، استاد محمدباقر تحریری اور امام صادق یونیورسٹی کے سربراہ علی اصغر افتخاری بھی موجود تھے۔










آپ کا تبصرہ